ابراہیم اور لبنیٰ کی کہانی
ابراہیم اور لبنیٰ کی کہانی
باب 1: پہلی ملاقات
ابراہیم ایک خوش اخلاق اور محنتی نوجوان تھا جو اپنے والد کے ساتھ خاندانی کاروبار میں ہاتھ بٹاتا تھا۔ ان کا خاندان کئی نسلوں سے دودھ اور مٹھائی کا کاروبار کر رہا تھا، اور ابراہیم کو بھی یہ وراثت سنبھالنی تھی۔ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتا تھا اور ہمیشہ اپنے کام میں مگن رہتا۔ دوسری طرف، لبنیٰ ایک ذہین اور خودمختار لڑکی تھی، جو حال ہی میں یونیورسٹی سے فارغ ہوئی تھی اور اب ایک اسکول میں پڑھا رہی تھی۔
ان دونوں کی پہلی ملاقات ایک شادی میں ہوئی۔ شادی کی تقریب ایک روایتی پاکستانی ماحول میں ہو رہی تھی، جہاں رنگ برنگے لباس، روایتی کھانے اور خوشیوں کی گونج تھی۔ ابراہیم، جو عام طور پر زیادہ بات چیت نہیں کرتا تھا، وہاں اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑا تھا کہ اچانک ایک ہلکی سی ٹکر ہوئی۔
"معاف کیجیے گا!" لبنیٰ نے جلدی سے کہا اور پیچھے ہٹی۔
"کوئی بات نہیں، آپ ٹھیک ہیں؟" ابراہیم نے نرمی سے پوچھا۔
یہ پہلی بار تھا جب دونوں نے ایک دوسرے کو غور سے دیکھا۔ لبنیٰ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا اور چلی گئی، لیکن اس مختصر لمحے نے دونوں کے دل میں ایک انوکھا احساس جگا دیا۔
باب 2: ایک نیا احساس
شادی کے بعد، ابراہیم کو احساس ہوا کہ وہ بار بار لبنیٰ کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اس کی معصوم مسکراہٹ، آنکھوں کی چمک، اور اس کا باوقار انداز، سب کچھ اسے بھا گیا تھا۔ دوسری طرف، لبنیٰ کو بھی ابراہیم کی نرمی اور مہذب رویہ اچھا لگا تھا۔
کچھ دن بعد، قسمت نے ایک بار پھر ان دونوں کو ملایا۔ اس بار وہ ایک مشترکہ جاننے والے کی سالگرہ کی تقریب میں ملے۔ وہاں زیادہ رش نہیں تھا، تو دونوں نے موقع غنیمت جان کر کچھ بات چیت کی۔
"آپ کیا کرتی ہیں؟" ابراہیم نے سوال کیا۔
"میں ایک اسکول میں پڑھاتی ہوں، بچوں کے ساتھ وقت گزارنا مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔" لبنیٰ نے جواب دیا۔
"یہ تو بہت خوبصورت کام ہے، بچوں کی تعلیم ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔" ابراہیم نے متاثر ہوتے ہوئے کہا۔
یہ پہلی تفصیلی بات چیت تھی، اور دونوں نے ایک دوسرے کو زیادہ قریب سے جاننے کا موقع پایا۔
باب 3: رشتے کی راہ
لبنیٰ اور ابراہیم کی ملاقاتیں بڑھنے لگیں۔ پہلے یہ ملاقاتیں اتفاقیہ ہوتی تھیں، مگر پھر دونوں نے ایک دوسرے سے بات کرنے کے لیے بہانے ڈھونڈنا شروع کر دیے۔ ابراہیم کو لبنیٰ کی ذہانت اور اس کی نرم مزاجی نے بے حد متاثر کیا، جبکہ لبنیٰ کو ابراہیم کی سادگی اور خلوص اچھا لگا۔
ابراہیم کے دل میں محبت کی شمع جلنے لگی تھی، لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ لبنیٰ بھی ایسا ہی محسوس کرتی ہے یا نہیں۔ آخر کار، اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے گھر والوں سے بات کرے گا۔
ایک دن، اس نے اپنی ماں سے کہا، "امی، مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔"
"ہاں بیٹا، بولو۔"
"مجھے ایک لڑکی پسند ہے، لبنیٰ نام ہے اس کا، اور وہ ایک اسکول میں پڑھاتی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ لوگ اس کے گھر رشتہ لے کر جائیں۔"
اس کی ماں نے مسکرا کر کہا، "بیٹا، اگر وہ اچھی لڑکی ہے اور تم اسے پسند کرتے ہو، تو ہم ضرور جائیں گے۔"
باب 4: لبنیٰ کا امتحان
ابراہیم کے گھر والے لبنیٰ کے گھر رشتہ لے کر گئے۔ لبنیٰ کے والدین حیران تو ہوئے لیکن خوش بھی تھے، کیونکہ انہیں ابراہیم کے خاندان کی نیک نامی کا علم تھا۔
لبنیٰ سے اس کے والدین نے پوچھا، "بیٹا، تمہاری کیا رائے ہے؟"
لبنیٰ کچھ لمحے خاموش رہی، پھر بولی، "ابو، مجھے ابراہیم پسند ہے، وہ بہت اچھا انسان ہے۔"
یہ سن کر لبنیٰ کی ماں نے مسکرا کر اس کا ہاتھ تھاما اور کہا، "بیٹا، اگر تم خوش ہو تو ہمیں بھی کوئی اعتراض نہیں۔"
باب 5: نئی زندگی کا آغاز
چند مہینوں بعد، ابراہیم اور لبنیٰ کی شادی دھوم دھام سے ہو گئی۔ دونوں کے دل میں خوشی کی روشنی تھی، مگر ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارنا بھی ایک نیا تجربہ تھا۔
لبنیٰ کو ابراہیم کے خاندانی کاروبار کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، اور اس نے ابراہیم کے ساتھ مل کر اسے مزید بہتر بنانے کی تجاویز دینا شروع کر دیں۔ ابراہیم کو لبنیٰ کی ذہانت پہلے ہی پسند تھی، اور اب اسے احساس ہو رہا تھا کہ لبنیٰ کے خیالات ان کے کاروبار کے لیے بھی بہت فائدہ مند ہیں۔
دوسری طرف، ابراہیم نے بھی لبنیٰ کے خوابوں کو سنجیدگی سے لینا شروع کر دیا۔ ایک دن اس نے کہا، "لبنیٰ، اگر تمہاری خواہش ہو تو میں تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں تاکہ تم اپنے اسکول کے خواب کو مزید بہتر طریقے سے پورا کر سکو۔"
لبنیٰ کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے۔ "تمہارا ساتھ ہو تو میں کچھ بھی کر سکتی ہوں، ابراہیم۔"
باب 6: محبت اور محنت کا سفر
دونوں نے مل کر اپنی زندگی کو آگے بڑھایا۔ ابراہیم نے کاروبار کو مزید ترقی دی اور لبنیٰ نے اسکول کے بچوں کے لیے ایک نیا تعلیمی منصوبہ شروع کیا۔ دونوں نے ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا اور مشکلات میں ایک دوسرے کی ڈھال بنے۔
زندگی میں کبھی اتار چڑھاؤ آتے رہے، مگر ان کی محبت ہر آزمائش میں کامیاب رہی۔ ان کا ساتھ اس بات کی مثال بن گیا کہ اگر دو لوگ ایک دوسرے کی عزت کریں، ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کریں اور مل کر آگے بڑھنے کی خواہش رکھیں، تو کوئی بھی چیلنج ان کے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔
یہ کہانی صرف محبت کی نہیں، بلکہ اعتماد، محنت اور ساتھ نبھانے کی بھی ہے۔ ابراہیم اور لبنیٰ نے سکھایا کہ جب دو د
ل ایک دوسرے کے ساتھ مخلص ہوں، تو زندگی کا ہر راستہ آسان ہو جاتا ہے۔

Comments
Post a Comment