Posts

علیزہ اور آفتاب – ایک ادھوری محبت

Image
  علیزہ ہمیشہ سے ایک سنجیدہ اور محتاط لڑکی تھی۔ اسے بچپن سے سکھایا گیا تھا کہ جذبات پر قابو رکھنا ضروری ہوتا ہے، کیونکہ محبت ہمیشہ خوشیوں کا وعدہ نہیں کرتی۔ وہ کتابوں میں کھوئی رہتی، تنہائی میں خوش رہتی، اور زندگی کو ایک منصوبے کے تحت گزارنے کی قائل تھی۔ دوسری طرف، آفتاب زندگی کا مکمل الٹ تھا۔ وہ کھل کر ہنسنے، دل سے جینے اور ہر لمحے میں خوشی تلاش کرنے والا شخص تھا۔ اس کی زندگی کا ایک ہی اصول تھا: "محبت ہی اصل حقیقت ہے، باقی سب بہانے ہیں۔" وہ لوگوں سے آسانی سے گھل مل جاتا تھا، ہر کسی کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنے والا شخص تھا۔ پہلی ملاقات علیزہ اور آفتاب کی ملاقات ایک سیمینار میں ہوئی تھی۔ علیزہ اپنی کمپنی کی نمائندگی کر رہی تھی اور آفتاب ایک نوجوان کاروباری شخصیت کے طور پر مدعو تھا۔ علیزہ نے جب پہلی بار آفتاب کو بولتے سنا تو وہ حیران رہ گئی۔ آفتاب کے الفاظ میں جوش تھا، اعتماد تھا اور ایک الگ سی روشنی تھی۔ سیمینار کے بعد، آفتاب نے علیزہ سے رسمی گفتگو کی۔ علیزہ نے مختصر جواب دیے اور جلدی سے اپنی جگہ پر لوٹ آئی۔ مگر آفتاب نے اس کی آنکھوں میں چھپی کہانی دیکھ لی تھی۔ وہ جان چکا تھا ک...

ابراہیم اور لبنیٰ کی کہانی

Image
 ابراہیم اور لبنیٰ کی کہانی باب 1: پہلی ملاقات ابراہیم ایک خوش اخلاق اور محنتی نوجوان تھا جو اپنے والد کے ساتھ خاندانی کاروبار میں ہاتھ بٹاتا تھا۔ ان کا خاندان کئی نسلوں سے دودھ اور مٹھائی کا کاروبار کر رہا تھا، اور ابراہیم کو بھی یہ وراثت سنبھالنی تھی۔ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتا تھا اور ہمیشہ اپنے کام میں مگن رہتا۔ دوسری طرف، لبنیٰ ایک ذہین اور خودمختار لڑکی تھی، جو حال ہی میں یونیورسٹی سے فارغ ہوئی تھی اور اب ایک اسکول میں پڑھا رہی تھی۔ ان دونوں کی پہلی ملاقات ایک شادی میں ہوئی۔ شادی کی تقریب ایک روایتی پاکستانی ماحول میں ہو رہی تھی، جہاں رنگ برنگے لباس، روایتی کھانے اور خوشیوں کی گونج تھی۔ ابراہیم، جو عام طور پر زیادہ بات چیت نہیں کرتا تھا، وہاں اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑا تھا کہ اچانک ایک ہلکی سی ٹکر ہوئی۔ "معاف کیجیے گا!" لبنیٰ نے جلدی سے کہا اور پیچھے ہٹی۔ "کوئی بات نہیں، آپ ٹھیک ہیں؟" ابراہیم نے نرمی سے پوچھا۔ یہ پہلی بار تھا جب دونوں نے ایک دوسرے کو غور سے دیکھا۔ لبنیٰ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا اور چلی گئی، لیکن اس مختصر لمحے نے دونوں کے دل میں ایک ...

مل کے بھی نہ مل پائے

Image
 فیصل اور رُباب – مل کر بھی نہ مل سکے پہلا باب – دو دنیائیں فیصل حافظ آباد کا رہنے والا تھا، ایک چھوٹے سے کاروباری گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے والد دودھ کا کاروبار کرتے تھے، اور فیصل بھی ان کی مدد کرتا تھا۔ لیکن اس کے خواب اس چھوٹے سے شہر سے کہیں آگے تھے۔ وہ کچھ بڑا کرنا چاہتا تھا، خود کو منوانا چاہتا تھا۔ اسی لیے جب اسے اسلام آباد کی ایک مشہور یونیورسٹی میں اسکالرشپ ملی، تو اس کے لیے یہ کسی خواب سے کم نہ تھا۔ دوسری طرف، رُباب اسلام آباد کے قریب واقع گاؤں سیدپور میں رہتی تھی۔ سیدپور ایک قدیم گاؤں تھا، جہاں وقت کی رفتار دھیمی تھی، جہاں درختوں کی سرگوشیاں رات کی خاموشی میں کہانیاں سناتی تھیں۔ رُباب کا تعلق ایک قدامت پسند خاندان سے تھا، جہاں لڑکیوں کے خوابوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔ لیکن اس کے والد نے اس کی تعلیم کی حمایت کی، اور وہ اسلام آباد کی اسی یونیورسٹی میں داخلہ لینے میں کامیاب ہوگئی جہاں فیصل آیا تھا۔ دوسرا باب – پہلی ملاقات فیصل اور رُباب کی پہلی ملاقات یونیورسٹی کی لائبریری میں ہوئی۔ فیصل ایک نایاب کتاب ڈھونڈ رہا تھا جو رُباب پہلے ہی لے چکی تھی۔ "کیا یہ کتاب اب...

مُحبت کی خوشبو

Image
 محبت کی خوشبو فیروز پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رمشا رہتی تھی۔ وہ ہوا کی طرح آزاد، بہار کی طرح خوشبودار اور چاندنی کی طرح نرم دل لڑکی تھی۔ پورے گاؤں میں اس کی ہنسی سب سے خوبصورت سمجھی جاتی تھی۔ وہ اکثر شام کے وقت گلابوں کے باغ میں جا بیٹھتی اور پرانے ناول پڑھتی۔ دوسری طرف، احمد ایک سنجیدہ طبیعت کا نوجوان تھا، جو شہر میں رہتا تھا اور ادب سے گہری محبت رکھتا تھا۔ وہ کچھ دنوں کے لیے اپنے دادا دادی سے ملنے گاؤں آیا تھا۔ ایک دن وہ گاؤں کی گلیوں میں گھومتے گھومتے اسی باغ میں جا نکلا، جہاں رمشا گلابوں کے درمیان بیٹھی تھی۔ "معذرت، کیا یہاں بیٹھ سکتا ہوں؟" احمد نے دھیمے لہجے میں پوچھا۔ رمشا نے چونک کر سر اٹھایا، پھر مسکرا کر بولی، "یہ باغ سب کا ہے، بیٹھ جائیے۔" کچھ دیر خاموشی رہی۔ دونوں اپنے اپنے خیالات میں گم تھے۔ احمد نے ہمت کر کے پوچھا، "آپ کون سی کتاب پڑھ رہی ہیں؟" "فیض کی شاعری۔" رمشا نے جواب دیا اور ایک شعر پڑھا: "محبت اب نہیں ہوگی، یہ کچھ دن بعد میں ہوگی..." احمد کے لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ آ گئی۔ "خوبصورت انتخاب ہے!" یہ پہلا م...