مُحبت کی خوشبو
محبت کی خوشبو
فیروز پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رمشا رہتی تھی۔ وہ ہوا کی طرح آزاد، بہار کی طرح خوشبودار اور چاندنی کی طرح نرم دل لڑکی تھی۔ پورے گاؤں میں اس کی ہنسی سب سے خوبصورت سمجھی جاتی تھی۔ وہ اکثر شام کے وقت گلابوں کے باغ میں جا بیٹھتی اور پرانے ناول پڑھتی۔
دوسری طرف، احمد ایک سنجیدہ طبیعت کا نوجوان تھا، جو شہر میں رہتا تھا اور ادب سے گہری محبت رکھتا تھا۔ وہ کچھ دنوں کے لیے اپنے دادا دادی سے ملنے گاؤں آیا تھا۔ ایک دن وہ گاؤں کی گلیوں میں گھومتے گھومتے اسی باغ میں جا نکلا، جہاں رمشا گلابوں کے درمیان بیٹھی تھی۔
"معذرت، کیا یہاں بیٹھ سکتا ہوں؟" احمد نے دھیمے لہجے میں پوچھا۔
رمشا نے چونک کر سر اٹھایا، پھر مسکرا کر بولی، "یہ باغ سب کا ہے، بیٹھ جائیے۔"
کچھ دیر خاموشی رہی۔ دونوں اپنے اپنے خیالات میں گم تھے۔ احمد نے ہمت کر کے پوچھا، "آپ کون سی کتاب پڑھ رہی ہیں؟"
"فیض کی شاعری۔" رمشا نے جواب دیا اور ایک شعر پڑھا:
"محبت اب نہیں ہوگی، یہ کچھ دن بعد میں ہوگی..."
احمد کے لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ آ گئی۔ "خوبصورت انتخاب ہے!"
یہ پہلا موقع تھا جب دونوں کی گفتگو ہوئی، مگر یہ سلسلہ روز بڑھتا گیا۔ احمد کو رمشا کی باتوں میں، اس کی مسکراہٹ میں، اور خاص کر اس کی آنکھوں میں کچھ ایسا نظر آتا جو دل کو بے چین کر دیتا۔ وہ محسوس کر رہا تھا کہ شاید وہ اس لڑکی کے بغیر رہ نہیں پائے گا۔
دوریاں اور بے قراری
دن گزرتے گئے، اور احمد کو گاؤں میں آئے ہوئے ایک مہینہ ہو چکا تھا۔ وہ ہر شام رمشا سے باغ میں ملتا، کبھی شاعری پر گفتگو ہوتی، کبھی زندگی کے خوابوں پر۔ رمشا کے قہقہے اور احمد کی گہری باتیں جیسے ایک دوسرے کو مکمل کر رہی تھیں۔
مگر ایک دن احمد کی ماں نے اسے بلا کر کہا، "بیٹا، تمہاری نوکری کی کال آ گئی ہے، تمہیں واپس شہر جانا ہوگا۔"
احمد کے لیے یہ خبر جیسے بجلی بن کر گری۔ وہ جانتا تھا کہ اسے واپس جانا ہوگا، مگر رمشا کا خیال اسے بے چین کر رہا تھا۔ وہ باغ میں گیا، جہاں رمشا پہلے سے موجود تھی، مگر آج وہ اداس لگ رہی تھی۔
"تمہیں پتہ چل گیا؟" احمد نے دھیرے سے پوچھا۔
"ہاں، گاؤں میں خبریں دیر سے نہیں پہنچتیں۔" رمشا نے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی۔
"میں جانا نہیں چاہتا، مگر مجبور ہوں۔" احمد نے کہا۔
"محبت اور جدائی تو زندگی کا حصہ ہیں، احمد۔ مگر ایک وعدہ کرو، جب بھی گلاب کی خوشبو محسوس کرو گے، مجھے یاد کرو گے۔" رمشا کی آنکھوں میں نمی تھی، مگر وہ خود کو مضبوط رکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔
احمد نے آہستہ سے اس کا ہاتھ تھاما اور بولا، "میں وعدہ کرتا ہوں، مگر تم بھی ایک وعدہ کرو، جب بھی چاندنی رات میں کوئی اچھی کتاب پڑھو، تو میرے بارے میں ضرور سوچو۔"
وقت کی آزمائش
احمد شہر چلا گیا۔ دن، ہفتے، اور مہینے بیت گئے۔ شہر کی مصروف زندگی میں وہ خود کو مشغول رکھنے کی کوشش کرتا، مگر رمشا کی ہنسی، اس کی باتیں اور وہ شامیں مسلسل اس کے دل میں بسی رہیں۔ وہ کئی بار اسے خط لکھنے بیٹھا، مگر ہر بار کچھ لکھے بغیر ہی کاغذ پھاڑ دیتا۔
دوسری طرف، رمشا ہر شام اسی باغ میں جا کر بیٹھتی، مگر اب وہ گلابوں میں احمد کی خوشبو تلاش کرنے کی کوشش کرتی۔
دوبارہ ملاقات
کئی سال بعد، احمد کو اچانک گاؤں جانے کا موقع ملا۔ اس کے دل میں بے چینی تھی، نجانے رمشا اب بھی اسے یاد کرتی ہوگی یا نہیں؟ وہ باغ میں گیا، مگر وہ وہاں نہیں تھی۔ اس کا دل دھک سے رہ گیا۔
پھر اچانک، اس نے پیچھے سے وہی ہنسی سنی، جو کبھی اس کا سکون تھی۔ رمشا وہیں کھڑی تھی، مگر پہلے سے زیادہ خوبصورت اور پُر اعتماد لگ رہی تھی۔
"کتنے سال لگا دیے واپس آنے میں، احمد؟" رمشا نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
"میں تمہیں بھولنے کی کوشش کر رہا تھا، مگر محبت کی خوشبو کبھی ماند نہیں پڑتی، رمشا۔" احمد نے کہا۔
رمشا نے ایک گلاب توڑ کر احمد کی طرف بڑھایا، اور وہ دونوں مسکرا دیے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وقت اور فاصلے محبت کو کمزور نہیں کر سکتے۔
مح
بت کی خوشبو ہمیشہ رہتی ہے، چاہے جتنے بھی سال بیت جائیں۔
.webp)
Comments
Post a Comment